جناب زینب کبریٰ علیھا السلام کی تاریخ وفات اور مزار

ثانی زہراء شریک کار امامت سید الشهداء مشیر حضرت زین العباء، بانی عزاء، محافظ شریعت خدا، وارث حیدر و جعفر، خواہر عباس و عقیل، عمہ اکبر و اصغر، مادر گرامی عون محمد – ام المصائب حضرت زینب الکبری سلام اللہ علیھا، کی زندگی کا وہ وقت آپہونچا جب دنیا کے تمام مصائب برداشت کر کے وہ مصائب و آلام ان کو نہ آسمان برداشت کر سکتا تھا اور نہ ہی زمیں نہ پہاڑوں میں طاقت تھی اور نہ سمندروں میں اتنی وسعت کے اس قدر مصائب برداشت کرکے زبان شکوہ سے آنشا نہ ہوئی بلکہ ہمیشہ شکر گذار ہیں ۔ جب ابن زیاد ملعون نے جناب زینب سے واقعات کربلا کے بارے میں دریافت کیا آپ کے گھر والوں کے ساتھ جو ہوا وہ کیسا لگا؟ فرمایا :
مَا رَ اَیْتُ اِلَّا جَمِیْلًا
میں تو اس کو بس نیک دیکھ رہی ہوں۔
کچھ لوگوں کے لئے خدا نے شہادت مقرر کی تھی وہ اپنی منزلوں تک پہونچ گئے ہیں۔ خدا تم کو اور ان کو میدان قیامت میں جمع کرے گا، وہاں گفتگو ہوگی وہاں مقدمے کا فیصلہ ہو گا اس دن دیکھنا کون کامیاب ہوتا ہے۔ اے ابن مرجانہ تیری ماں غمزدہ ہو۔
جب زمہ داریاں پوری ہوئیں، لوگوں تک امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کی شہادت کی خبر عام ہوگئی تو کوفہ، شام، کربلا اور مدینہ میں صفِ عزا بچھ گئی، عزاداری کی بنیادیں مستحکم ہو گئیں، پروردگار ملک وملکوت سے ملاقات کا وقت آپہونچا۔ اپنے آباء و اجداد بھائیوں سے عرش اعلیٰ پر ملاقات کا وقت معین آگیا۔ مصائب و آلام سے چور چور, عزم و ارادہ میں کوہ طور، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی روح مقدس خدا کی بارگاہ کے مقدس ترین فرشتوں کے ذریعہ رفیق اعلی میں اہل بیت نبوت و رسالت کی مجلس میں جا پہونچی۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے جب جناب زینب کبری سلام اللہ علیہا کی روح مطہر پنج تن پاک کی بارگاہ میں پہنچیں ہوگی تو نانا، ماں، باپ اور بھائیوں نے جب مصائب دریافت کئے ہوں گے اور خود جناب زینب کی زبانی بیان ہوئے ہونگے تو کیا قیامت برپا ہوئی ہوگی۔
جناب زینب کبری سلام اللہ علیہا کی تاریخ وفات کے بارے میں چند اقوال ہیں ۔ ایک سوال عام طور سے کیا جاتا ہے کہ ولادت اور وفات کی تاریخوں میں اختلاف کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے :
(۱) جس طرح آج کل ولادت و وفات کی تاریخ رجسترد کردی جاتی ہے اس زمانہ میں اس طرح کا کوئی رواج نہیں تھا جس دن کسی کی ولادت وفات کی خبر دی جاتی ہے اسی تاریخ کو تاریخ ولادت و وفات تسلیم کر لیتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ ولادت یا وفات اس سے پہلے ہوئی ہو۔
(۲) اس زمانہ میں ہر طرف دشمنان اہل بیت علیہم السلام کی حکومت تھی ۔ اہل بیت علیہم السلام سے متعلق باتیں نقل کرنے پر سخت پابندی تھی بلکہ اس پر سخت سزائیں تھیں۔ حکومت کے پرورده بدرجہ مجبوری یہ بات نقل کرتے تھے تو ظاہر ہے اس صورت میں یہ بات تو نقل نہیں ہوتی تھی۔
(۳) اہل بیت علیہم السلام کے خاندان کے افراد کی وفات اکثر غلاموں کے علم کی وجہ سے ہوئی تھی ۔ وفات کی خبر نقل کرنے میں چونکہ ظالموں کے ظلم کا تذکرہ ہوتا اس بنا پر وفات وغیرہ کی باتوں کو عام طور سے نقل نہیں کیا جاتا تھا۔
(۴)اتنی سختیوں اور پابندیوں کے باوجود اہل بیت علیہم السلام کے فضائل و مناقب اس سے زیادہ ان کے مصائب و آلام کا کتابوں میں ذکر ہوتا ولادت و وفات کی تاریخوں کا باقی رہنا، کسی معجزہ سے کم نہیں ہے۔
جناب زینب سلام اللہ علیہا کی وفات دو تاریخوں میں ذکر کی گئی ہے۔ عربی کتابوں میں اور حضرت آیت الله العظمیٰ آقائی سیستانی مدظلہ العالی کے دفتر سے شائع شدہ تقویم میں اور اصلاح کی تقویم ۵ا رجب ۶۳ھ یا ۶۵ھ تحریر کی گئی ہے جب کہ اصلاح نے ایک قول ۶, جمادی الاول ۶۵ھ بھی نقل کیا ہے اور وہ حضرات کی طرف سے شائع شده کیلنڈر میں ۱۶ ذی الحجہ بھی نقل کی گئی ہے ۔ بہر حال تاریخ وفات کا اختلاف اصل وفات اور اس کی اہمیت پر اثر انداز نہیں ہوتا ہے۔ یہ دن نہایت مصیبت کا دن ہے۔
یوم وفات جناب زینب سلام اللہ علیہا پر امام زمان علیہ السلام کا گریہ
“خصائص زینبیہ” کے مولف جناب آیت الله سید نور الله الجزائری نے مصاحب کتاب ” الكبريت الاحمر” میں جناب شیخ محمد باقر نائینی کے ذریعہ یہ واقعہ نقل فرمایا ہے :
جب میں حوزه علمیه نجف اشرف میں علم حاصل کر رہا تھا ایک متقی و پارسا سیّد کو دیکھا جسے لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا ایک دن انھوں نے حرم امیرالمونین علیہِ سلام میں زیارت کے دوران ایک ترکی زائر کو دیکھا جو حرم کے ایک گوشہ میں قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول تھا۔ یہ منظر دیکھ کر اس سید پرہیزگار پر پڑا اثر ہوا اور اپنے دل میں کہا۔ یہ ترکی اتنے اچھے انداز میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہے۔ یہ تمھارے جدّ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کتاب ہے اور تم اس کی تلاوت سے محروم ہو۔ اس کے بعد سید دن کے کچھ اوقات زائرین حرم مطہر کو پانی پلانے میں صرف کرتے تھے اور کچھ وقت پڑھنے لکھنے میں صرف کرتے تھے۔ محنت کرتے کرتے رفتہ رفتہ اس منزل پر پہونچے حضرت آیت الله العظمیٰ میرزا محمّد حسن شیرازی (۱۳۱۳) کے درس خارج میں شرکت کرنے لگے اور درجہ اجتہاد پر فائز ہو گئے۔
اس سید جلیل پرہیزگار اور پارسا کا بیان ہے: میں نے ایک مرتبہ خواب میں حضرت ولی عصر صاحب الزمان کو دیکھا کہ نہایت غمزدہ ہیں اور چشم مبارک سے آنسو رواں ہیں۔
حضرت کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا سلام کا شرف حاصل کیا اس غم اور گریہ کا سبب دریافت کیا۔ فرمایا: آج میری پھُوپھی جناب زینب سلام اللہ علیہا کا یوم وفات ہے۔ آج کے دن آسمانوں میں ملائکہ جناب زینب سلام اللہ علیہا کی فرش عزا بجھاتے ہیں اور جناب زینب سلام اللہ علیہا کے خطبہ پڑھ پڑھ کر گریہ کرتے ہیں جب تک میں ان کو جا کر تسلّی نہیں دیتا ہوں اس وقت تک ان کا گریہ و بکاء جاری رہتا ہے۔
)زینب کبری سید ابو القاسم دیباجی ص ۲۲۰(
اس سے اندازہ ہوتا ہے جناب زینب سلام اللہ علیہا کی رواداری حضرت امام زمانہ علیہ السلام اور فرشتوں کو بہت پسند ہے۔ اسی بنا پر ہمیں بھی یہ دن نہایت عزت و احترام غم و الم کے ساتھ منانا چاہیے۔
علماء نے جناب زینب سلام اللہ علیہا کا سنہ وفات ۶۲ ھ تحریر فرمایا ہے بعض افراد نے ۶۵ ھ بھی لکھا ہے۔ یعنی واقعہ کربلا کے بعد بس ایک سال یا چار سال زِندہ رہیں۔ ظاہری بات ہے جس بہن نے واقعہ کربلا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو، فرزندوں، بھائیوں اور بھتیجوں کے پارہ پارہ بے کفن لاشے دیکھے ہوں جس نے سید شھداء علیہِ سلام کا ٹکڑے ٹکڑے خاک و خون میں اٹا بدن دیکھا ہو اس کو کیونکر قرار آتا ہوگا۔ جب آج ہزاروں سال گذرنے کے بعد صرف سن کر دل بے چین ہو جاتا ہے اور صبر وقرار رخصت ہو جاتا ہے تو اک چاہنے والی بہن کی کیا حالت ہوئی ہوگی۔ ہر وقت ذہن میں کربلا کی تصویر رہی ہوگی اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں رہتا ہوگا ایک غم سے انسان نے نڈھال ہو جاتا ہے چہ جائیکہ ۱۸ بنی ہاشم کا غم۔
مزار مقدس حضرت زینب کبری سلام اللہ علیھا
جناب زینب کبری سلام اللہ علیھا کے مزار کے بارے میں تین نظریات ہیں۔
(۱) مدینہ منورہ میں بقیع میں دفن ہیں۔
(۲) مصر کے شہر قاہرہ میں دفن ہیں ۔
(۳) شام کے شہر دمشق سے ۷ کلو میٹر کے فاصلہ پر جس کو آج کل ست زمینی کہا جاتا ہے۔
پہلے قول کی دلیل میں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد جب جناب زینب سلام اللہ علیھا اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شهر مدینه منورہ واپس آئیں اس کے بعد آپ کہیں نہیں گئیں زندگی کے آخری لمحات تک اسی شہر مدینہ میں رہیں۔
اگر جناب زینب سلام اللہ علیھا کی قبر مدینہ میں ہوتی تو اہل بیت علیہم السلام کی روایتوں میں اس کا ضرور تذکرہ ہوتا اور اہل بیت علیہم السلام کی دیگر شخصیتوں کی طرح ان کی بھی قبر مطہر کا ضرور نام ونشان ہوتا۔ جنت البقیع کی مقدس قبروں میں اس کا بھی ضرور تذکرہ ہوتا۔
دوسرے قول کے بارے میں یہ دلیل بیان کرتے ہیں۔ جب جناب زینب سلام اللہ علیھا مدینہ منورہ واپس آئیں وہ مسلسل حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب اور یزید ملعون کے مظالم کا تذکرہ فرماتی تھیں جس سے عام لوگوں میں یزید کے خلاف غم و غُصّہ اور انتقام کا جذبہ پڑھتا تھا۔ مدینہ کے گورنر عمرو بن سعید الاشدق نے یزید کو ان حالات سے باخبر کیا۔ یزید نے جواب میں لکھا ان کے اور لوگوں کے درمیان جدائی کر دو اور ان کو مدینہ سے کسی اور شہر روانه کردو۔ جب جناب زینب زینب سلام اللہ علیہا پر حکومت وقت کا بہت زیادہ دباؤ بڑھا اور مدینہ میں جینا دوبھر ہوگیا۔ آپ مصر چلی گئیں اور وہیں آپ کی وفات ہوئی۔ وہاں کے لوگوں نے آپ کا بڑا احترام کیا اور آپ کی وصیت کے مطابق مسجد جامع میں نماز جنازہ کے بعد آپ کو آپ کے گھر میں دفن کر دیا گیا۔
اس سلسلے میں بس اتنا کہنا ہے کسی بھی معتبر تاریخ میں مصر میں جناب زینب سلام اللہ علیھا کی قبر کا تذکرہ نہیں ہے۔ قاهرہ میں جو مزار ہے وہ جناب زینب کبری سلام اللہ علیھا کا نہیں بلکہ زینب بنت یحییٰ المتوج بن الحسن الانور بن زید بن حسن بن علی بن ابی طالب علیہما السلام کا ہے۔
اس کے علا وہ مشہور مورخ ابن الانصاری نے “الکواکب السياره” نامی کتاب میں مصر کے مشہور مزارات کا تذکرہ کیا ہے اس میں جناب زینب کبری سلام اللہ علیھا کے مزار کا کوئی ذکر نہیں ہے جب کہ زینب نام کی گیارہ خواتین کے مزار کا ذکر ہے۔ اس بنا پر اگر جناب زینب سلام اللہ علیھا کا مزار مصر کے شہر قاہرہ میں ہوتا تو اس کا ضرور تذکرہ ہوتا ۔
تیسرے قول کے بارے میں یہ دلیل بیان کرتے ہیں ایک تو اس مزار کی ایک قدیم تاریخ ہے۔ دوسرے یہ کہ حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی پوتی اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی بہو یہ سیدہ نفیسہ بنت حسن بن زید بن حسن بن علی علیہ السلام نے اس مزار کی زیارت کے لئے سفر کیا اور شام آ کر اس کی زیارت کی۔
تیسرے یہ کے متعدد مورخین نے یہ واقعہ لکھا ہے جب ۱۳۰۲ھ میں روضہ کا گنبد منہدم ہو گیا۔ والی دمشق نے تاجروں کی مدد سے اس روضہ کی تعمیر شروع کی تعمیر کے دوران ایک قد آدم پتھر نکلا جس پر یہ عبارت تحریرتھی :
ہٰذَا قَبْرُ السَّیِّدَۃِزَیْنَبَ بِنْتِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ……
یہ قبر ہے جناب زینب بنت علی بن ابی طالب بنت فاطمہ زہراء کی۔
اسی جگہ ان کی وفات ہوئی اور یہیں قبر بنائی گئی جب آپ دوسری مرتبہ شام واپس آئیں۔
)زینب الکبری ص ۲۳۰ ۔ ابوالقاسم ديباجی(
چوتھے یہ کہ اگر جناب زینب کبری سلام اللہ علیہا کی قبر مطہر اور مزار مقدس شام میں نہ ہوتا و داعش اور وہابی فکر ونظر کے پرورده بمباری نہ کرتے۔ یہ دشمنان اہل بیت علیہم السلام کی زندگی میں بھی ان کو ستاتے رہے اور ان کی وفات کے بعد ان کے مزارات کو منہدم کر کے اپنی دیرینہ دشمنی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔
پانچویں حضرت امام زمان علیہ السلام کی تاکید و تائید
مرحوم و مغفور جناب محمد رضا سقازادہ نے اپنی کتاب “الخصائص الزینبیہ” کے مقدمہ میں یہ واقعہ مرحوم آیت الله آقا ضیاء عراقی طاب ثراه (جن کے شاگردوں کے فہرست میں بزرگ مرتبہ مراجع شامل ہیں) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرد مومن قطیف (سعودی عربیہ ) سے مشہد مقدس حضرت امام رضا علیہ السّلام کی زیارت کو جا رہا تھا۔ راستہ میں : اس کا سارا مال غائب ہوگیا۔ وہ بیابان میں حیران و پریشان تھا جب ہر طرف سے پریشانیوں نے گھیر لیا، ولی عالم امکان حضرت امام زمان علیہ السلام کی خدمت اقدس میں فریاد کی۔ استغانہ کیا توسل کیا۔ اتنے میں ایک نورانی شخص کی زیارت نصیب ہوئی۔ اُنہونے ایک رقم دے کر فرمایا: “تم اس سے سامراء پہنچ جاؤ گے۔ سامراء میں ہمارے وکیل حاج میرزا حسن الشیرازی کے پاس جانا اور ان سے کہنا آپ کے پاس ہمارے کچھ مالی حقوق ہیں آپ ہمیں اس قدردے دیں جس سے میں اپنے جد حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کر سکوں”
اس مرد مومن کا بیان ہے اس وقت کچھ اتنا پریشان تھا کہ اس بات کی طرف متوجہ ہی نہیں ہو سکا کہ یہ سید بھلا کون ہیں اور کہاں سے تشریف لائے ہیں البتہ میں نے ان سے یہ دریافت کیا اگر جناب شیرازی نے مجھے سے آپ کے بارے میں دریافت کیا تو میں کیا جواب دوں؟
انھوں نے فرمایا: “تم جناب شیرازی سے کہنا۔ سید مہدی ہیں تم اور ملا علی کنی تہرانی اس سال مالی گرمیوں میں شام میں تھے اور تم دونوں میری پھُوپھی جناب زینب کبری کی زیارت سے مشرف ہوئے تھے ۔ اس وقت وہاں زائروں کا ہجوم تھا۔ وہاں زائرین نے کبوتروں کے لئے بہت زیادہ دانے ڈالے تھے۔ اس وقت تم دونوں اپنی عبائیں اتار کر تم دونوں جھاڑو دے رہے تھے اور بکھرے ہوئے دانوں کو ایک گوشہ میں اکٹھا کر رہے تھے۔ اس کے بعد ملا کنی علی کی طہرانی اپنے ہاتھوں سے ان دانوں کو اٹھا کر حرم کے باہر لے جا رہے تھے۔ میں وہاں کھڑا تم دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
مرد مومن قطیفی کا بیان ہے جب میں نے آیت الله حاج میرزا حسن شیرازی سے یہ واقعہ بیان کیا ان پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ مجھے گلے سے لگا لیا میری پیشانی کا بوسہ لیا میرا احترام کیا اور خراسان تک جانے کے لئے اخراجات دے دئیے۔
پھر کچھ دنوں کے بعد اس مومن کا تہران جانا ہوا اور وہاں ملا کنی تہرانی سے ملاقات ہوئی۔ ان سے بھی یہ واقعہ بیان کیا انھوں نے بھی اس کی تصدیق کی البتہ انھیں اس بات کا بہت افسوس تھا کہ امام زمانه علیہِ سلام نے جناب
میرزا شیرازی کے نام پیغام بھیجا اور اُنہیں اس لائق نہیں سمجھا۔
)زینب الکبری، ص ۲۳۱-۲۳۳(
اس کے علاوہ وہ تمام واقعات، عنایات اور کرامات جو برابر جناب زینب کبری سلام اللہ علیھا کے روضہء مقدّس سے ظاہر ہوتی رہتی ہیں وہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ جناب زینب کبری سلام اللہ علیھا کا مزار شام میں ہے۔
خداوند عالم جلد از جلد شام اور دوسرے تمام ممالک کو داعش اور اس جیسے افراطی اور سفاک گروہوں سے پاک صاف کرے، پوری طرح سے امن و امان قائم ہو، دشمنان اہل بیت علیہم السلام نیست و نابود ہوں، زائرین کے لئے راستہ ہموار ہو، زائروں کا ہجوم ہو، خدایا دنیا میں جناب زینب سلام اللہ علیہا اور دیگر مزارات اہل بیت علیہم السلام کی زیارت نصیب ہو اور میدان قیامت میں ان بزرگواروں کی شفاعت اور ان کے ہمراہ محشور ہونے کی سعادت نصیب ہو آمین ۔