زمانہٴ غیبت میں امام زمانہ ؑ سے فائده

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ زمانہٴ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟
یہ درست ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام خدائے حکیم و دانا کے حکم سے، لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوگئے لیکن اس کے باوجود تمام انسانوں کی زندگی اور کائنات کے وجود میں مثبت اور اہم اثر پایا جاتاہے۔

آپ نے یقیناً ابر آلوددنوںکو دیکھا ہو گا۔ کیا ابرآلودد نوں میں جبکہ سورج بادلوں کے پیچھے رہتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دیتا یہ کہا جاسکتا ہے کہ سورج سے لوگوں کو کوئی فائده نہیں پہونچتا ؟ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ابرآلود دنوں اور اندھیری راتوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا؟ ہر گز نہیں ہم جانتے ہیں کہ وہ ابر آلود دن بھی سورج ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگرچہ بادل آسمان کو چھپائے رہتے ہیں اور سورج کے پُر نور چہرے کو ہماری نظروں سے چھپائے ہوئے ہیں، لیکن سورج کی گرمی، ان بادلوں کے پیچھے سے‘ بھی ہم تک پہونچتی رہتی ہے اور اس کی روشنی ہر جگہ چمک کر دنیا میں اجالا پھیلائے ہوئے ہے۔

غیبت کے دنوں میں بھی اگرچہ امام زمانہ حضرت مہدی علیہ السلام کے مقدس اور تابناک وجود کا سورج غیبت کے بادلوں کے پیچھے ہے اور دکھائی نہیں دیتا لیکن ان کی محبت اور لطف و کرم کا نور ہر جگہ جلوہ گر ہے اور پوری کائنات کے وجود کو دوام بخشے ہوئے ہے۔

اگر وہ نہ ہوتے تو کائنات باقی نہ رہتی، اگر وہ نہ ہوتے تو سورج کے گرد زمین کی گردش نہ ہوتی ، خداوند عالم نے انہیں حضرت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے لئے پیدا کیا، انہیں حضرت کی خاطر تمام انسانوں کو خلقت زندگی بخشا ہے، دنیا کو قائم رکھا ہے۔

اگر امام زمانہ علیہ السلام کا وجود مقدس چاہے وہ پردہٴ غیبت میں بھی نہ ہوتا تو سورج تاریک ہو کر رہ جاتا ، چاند کا نام و نشان نہ ملتا، بادل نہ برستے، دریا اور سمندرسوکھ جاتے، انسان نابود ہوجاتے، زمین بکھر کر معدوم ہو جاتی خلاصہ ہے کہ تمامئ موجودات اور مخلوقات نیست ونابود ہوجاتی ۔ اگر ہم زندہ ہیں اور حرکت کرتے ہیں، اگر زمین، چاند ، سورج باقی ہیں تو حضرت ولی عصر حجۃ بن الحسن عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے وجود مقدس ہی کی خاطر باقی اور موجود ہیں۔

اسی بنا پر تمامئ عالم ایک دن کی مانند ہے جس کا دھڑکتا ہوا دل امام زمانہ علیہ السلام کا ہوتا ہوادل امام زمانہ علیہ السلام کا وجود ہے، اگر دل نہ ہو تو سارا بدن مردہ ہوکر بکھر جائے۔ اگر حضرت مہدی علیہ السلام نہ ہوتے تو ساری کائنات نابود ہوجاتی ۔ بدن کے ہر حصے کا تعلق دل سے زیادہ ہوتا ہے وہ زیادہ شاداب ہوتا ہے اور جس کا تعلق دل سے ختم ہوجاتا ہے اس تک خون ہی نہیں پہونچتا اور وہ فاسد ہوکر مردہ ہو جاتا ہے۔

اسی طرح جوشخص امام زمانہ علیہ السلام کی یادمیں رہتا ہے، ان سے محبت رکھتا ہے، ان کے احکام کی اطاعت و پیروی کرتا ہے، وہ خوش نصیب اور سعادتمند ہے اور جو حضرت ولی عصر ؑ سے کوئی رابطہ نہیں رکھتا، ان کے احکام کی طرف دھیان نہیں دیتا، ان کے ظہور کے لئے دعا نہیں کرتا، انہیں کبھی یاد نہیں کرتا وہ جسم کے اس حصے کی مانند ہے جوفاسد ہوکر مردہ ہو چکا ہے اور وہ منزل فضیلت و سعادت تک ہرگز نہیں پہونچ ہو سکتا۔